rabb (Lord) + al-ʿalamin (the worlds).
رَبّ (رب) + الْعَالَمِين (جہان)۔
Idafah joins two nouns to mean 'the X of Y', like 'Lord of the worlds'. The first noun never takes al- or tanween; the second noun takes the kasra ending. It is one of the most common structures in the Quran.
اضافت دو اسموں کو ملا کر 'Y کا X' کا مطلب دیتی ہے، جیسے 'تمام جہانوں کا رب'۔ پہلے اسم (مضاف) پر نہ 'الـ' آتا ہے نہ تنوین؛ دوسرا اسم (مضاف الیہ) مجرور ہوتا ہے۔ یہ قرآن کی سب سے عام ترکیبوں میں سے ہے۔
rabb (Lord) + al-ʿalamin (the worlds).
رَبّ (رب) + الْعَالَمِين (جہان)۔
A chain of three nouns: Master – of the Day – of Judgement.
تین اسموں کی زنجیر: مالک – دن کا – بدلے کے۔
ism (name) + Allah; bi- is a preposition before it.
اسم (نام) + اللہ؛ شروع میں بِـ حرفِ جار ہے۔
فِي سَبِيلِ اللَّهِ – in the way of Allah.
فِي سَبِيلِ اللَّهِ – اللہ کی راہ میں۔
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ – Muhammad is the Messenger of Allah.
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ – محمد اللہ کے رسول ہیں۔
ahl (people) + al-kitab (the Book).
أَهْل (لوگ) + الْكِتَاب (کتاب)۔
bani (sons of) loses its final nun in idafah.
اضافت میں بَنُونَ کا نون گر جاتا ہے اور بَنِي رہ جاتا ہے۔
Very frequent phrase; yawm without al- because it is the first noun.
بہت عام ترکیب؛ یَوْم پر 'الـ' نہیں کیونکہ یہ مضاف ہے۔
A noun + noun with pronoun: favour – of your Lord.
اسم + ضمیر والا اسم: نعمت – تمہارے رب کی۔
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ – say, I seek refuge in the Lord of mankind.
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ – کہو میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔