Utha Do Parda Dikha Do Jalwa
Ahmad Raza Khan (Ala Hazrat) (d. 1921) · Urdu
اٹھا دو پردہ دکھا دو جلوہ
Lift the veil and show the light – a plea to the Prophet ﷺ for help in the grave and on the Day of Judgement.
اٹھا دو پردہ دکھا دو جلوہ کہ نور باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے
انہیں کی بو مایۂ سمن ہے انہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
انہیں سے گلشن مہک رہے ہیں انہیں کی رنگت گلاب میں ہے
وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول ان سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے
کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور
بتا دو آ کر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں ہے
خدائے قہار ہے غضب پر کھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر
بچا لو آ کر شفیع محشر تمہارا بندہ عذاب میں ہے
گنہ کی تاریکیاں ہیں چھائیں امنڈ کے کالی گھٹائیں آئیں
خدا کے خورشید مہر فرما کہ ذرہ بس اضطراب میں ہے
کریم اپنے کرم کا صدقہ لئیم بے قدر کو نہ شرما
تو اور رضاؔ سے حساب مانگے رضاؔ بھی کوئی حساب میں ہے
Source: Rekhta (Intikhab-e-Ala Hazrat) – Hadaiq-e-Bakhshish. Public domain (poet d. 1921; Hadaiq-e-Bakhshish published 1907–1926).