Qaseeda-e-Noor
Ahmad Raza Khan (Ala Hazrat) (d. 1921) · Urdu
قصیدۂ نور
Ala Hazrat’s long "Ode of Light", in which every couplet ends with the word noor (light).
صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے بادہ نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارہ نور کا
باغ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا
مست بو ہیں بلبلے پڑھتی ہیں کلمہ نور کا
بارہویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا
بارہ برجوں سے جھکا اک اک ستارہ نور کا
ان کے قصر قدر سے خلد اک کمرہ نور کا
سدرہ پائی باغ میں ننھا سا پودا نور کا
عرش بھی فردوس بھی اس شاہ والا نور کا
یہ مسگمن برج وہ مسکوئے اعلیٰ نور کا
آئی بدعت چھائی ظلمت رنگ بدلا نور کا
ماہ سنت مہر طلعت لے لے بدلا نور کا
تیرے ہی ماتھے رہا اے جان سہرا نور کا
بخت جاگا نور کا چمکا ستارہ نور کا
میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا
نور دن دونا تیرا دے ڈال صدقہ نور کا
تیری ہی جانب ہے پانچوں وقت سجدہ نور کا
رخ ہیں قبلہ نور کا ابرو ہے کعبہ نور کا
پشت پر ڈھلکا سر انوار سے شملہ نور کا
دیکھیں موسیٰ طور سے اترا صحیفہ نور کا
تاج والے دیکھ کر تیرا عمامہ نور کا
سر جھکاتے ہیں الٰہی بول بالا نور کا
بینی پر نور پر رخشاں ہے بکہ نور کا
ہے لواء الحمد پر اترا پھریرا نور کا
مصحف عارض پہ ہے خط شفیعہ نور کا
لو سیاہ کارو مبارک ہو قبالہ نور کا
آب زر بنتا ہے عارض پر پسینہ نور کا
مصحف اعجاز پر چڑھتا ہے سونا نور کا
پیچ کرتا ہے فدا ہونے کو لمحہ نور کا
گرد سر پھرنے کو بنتا ہے عمامہ نور کا
ہیبت عارض سے تھرتھراتا ہے شعلہ نور کا
کفش پا پر گر کے بن جاتا ہے گپھا نور کا
شمع دل مشکوٰۃ تن سینہ زجاجہ نور کا
تیری صورت کے لیے آیا ہے سورہ نور کا
میل کس درجہ ستھرا ہے وہ پتلا نور کا
ہے گلے میں آج تک کورا ہی کرتا نور کا
تیرے آگے خاک پر جھکتا ہے ماتھا نور کا
نور نے پایا تیرے سجدے سے سیما نور کا
تو ہیں سایہ نور کا ہر عضو ٹکڑا نور کا
سائے کا نہ سایہ ہوتا ہیں نہ سایہ نور کا
کیا بنا نام خدا اسرا کا دولہا نور کا
سر پہ سہرا نور کا بر میں شہانا نور کا
بزم وحدت میں مزہ ہوگا دوبالا نور کا
ملنے شمع طور سے جاتا ہے اکا نور کا
وصف رخ میں گاتی ہیں حوریں ترانہ نور کا
قدرتی بیناؤ میں کیا بجتا ہے لہرا نور کا
یہ خطاب کن میں آیا طرفہ آیہ نور کا
غیر قائل کچھ نہ سمجھا کوئی معنیٰ نور کا
دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا نہ بھلا نور کا
من راٰی کیسا یہ آئینہ دکھایا نور کا
صبح کر دی کفر کی سچا تھا مژدہ نور کا
شام ہی سے تھا شب تیرہ کو دھڑکا نور کا
پڑھتی ہے نوری بھرن عمدہ ہے دریا نور کا
سر جھکا آئے کشت کفر آتا ہے اعلیٰ نور کا
ناریوں کا دور تھا دل جل رہا تھا نور کا
اے عمر تم کو دیکھا ہو گیا ٹھنڈا کلیجہ نور کا
نسخ ادیا کر کے خود قبضہ بٹھایا نور کا
تاجور نے کر لیا کچا علاقہ نور کا
جو گدا دیکھو لیے جاتا ہے توڑا نور کا
نور کی سرکار ہے کیا اس میں توڑا نور کا
بھیک لے سرکار سے لا جلد کاسہ نور کا
ماہ نو طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا
دیکھ ان کے ہوتے نہ زیبا ہے دعویٰ نور کا
مہر لکھ دے یاں کے ذروں کو مچلکہ نور کا
یاں بھی داغ سجدہ طیبہ ہے تمغہ نور کا
اے قمر کیا تیرے ہی ماتھے ہے ٹیکہ نور کا
سمع ساں اک اک پروانہ ہے اس با نور کا
نور حق سے لو لگائے دل میں رشتہ نور کا
انجمن والے ہیں انجم بزم حلقہ نور کا
چاند پر تاروں کے جھرمٹ سے ہے ہالہ نور کا
تیری نسل پاک میں ہیں بچہ بچہ نور کا
تو ہیں عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا
نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا
ہو مبارک تم کو ذو النورین جوڑا نور کا
کس کے پردے نے کیا آئینہ اندھا نور کا
مانگتا پھرتا ہے آنکھیں ہر نگینہ نور کا
اب کہاں وہ تابشیں کیسا وہ ترکا نور کا
مہر نے چھپ کر کیا خاصہ دھندلاکا نور کا
تم مقابل تھے تو پہروں چاند بڑھتا نور کا
تم سے چھٹ کر منھ نکل آیا ذرا سا نور کا
قبر انور کہیے یا قصر معلیٰ نور کا
چرخ اطلس یا کوئی سادہ سا قبہ نور کا
آنکھ مل سکتی نہیں در پر ہے پہرہ نور کا
تاب ہیں بے حکم پر مارے پرندہ نور کا
نزع میں لوٹے گا خاک در پہ شیدا نور کا
مر کے آورگی عروس جاں دوپٹہ نور کا
تاب مہر حشر سے چونکا نہ کشتہ نور کا
بوندیاں رحمت کی دینے آئیں چھینٹا نور کا
وضع واضع میں تیری صورت ہے معنیٰ نور کا
یوں مجازاً چاہیں جس کو کہہ دیں کلمہ نور کا
انبیا اجزا ہے تو بالکل ہے جملہ نور کا
اس علاقے سے ہے ان پر نام سچا نور کا
یہ جو مہر و ماہ پہ ہے اطلاق آتا نور کا
بھیک تیرے نام کی ہے استعارہ نور کا
سرمگیں آنکھیں حریم حق کے وہ مشکیں غزال
ہے فضائے لا مکاں تک جن کا رمنا نور کا
تاب حسن گرم سے کھل جائیں گی دل کے کنول
نو بہاریں لائے گا گرمی کا جھلکا نور کا
زر مہر قدس تک تیرے توسط سے گئے
حد اوسط نے کیا صغریٰ کو کبریٰ نور کا
سبزہ گردوں جھکا تھا بہر پا بوس براق
پھر نہ سیدھا ہو سکا کھایا وہ کورا نور کا
تاب سم سے چونھیا کر چاند انہیں قدموں پھرا
ہنس کے بجلی نے کہا دیکھا چلاوا نور کا
دید نقش سم کو نکلی سات پردوں سے نگاہ
پتلیاں بولیں چلو آیا تماشہ نور کا
عکس سم نے چاند سورج کو لگائے چار چاند
پر گیا سیم و زر گردوں پہ سکہ نور کا
چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھا دے مہد میں
کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا
اک سینے تک مشابہ، اک وہاں سے پاؤں تک
حسن سبطین ان کے جاموں میں ہے نیما نور کا
صاف شکل پاک ہے دونوں کے ملنے سے عیاں
خط توام میں لکھا ہے یہ دو ورقہ نور کا
نور و بنت نور و زوج نور و ام نور و نور
نور مطلق کی کنیز اللہ رے لہنا نور کا
کاف گیسو ہا دہن یا ابرو آنکھیں عین صاد
کاف ہا یا عین صاد ان کا ہیں چہرہ نور کا
اے رضا یہ احمد نوری کا فیض نور ہیں
ہو گئی میری غزل بڑھ کر قصیدہ نور کا
Source: Naat-Lyrics (open transcription) – Hadaiq-e-Bakhshish. Public domain (poet d. 1921; Hadaiq-e-Bakhshish published 1907–1926).