Jate Hain Soo-e-Madina Ghar se Ham
Hasan Raza Khan (d. 1908) · Urdu
جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم
The joy of setting out from home towards Madinah.
جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
باز آئے ہندِ بد اختر سے ہم
مار ڈالے بے قراری شوق کی
خوش تو جب ہوں اس دلِ مضطر سے ہم
بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ ہے یہی
اب کہاں جائیں تمہارے در سے ہم
تشنگیِ حشر سے کچھ غم نہیں
ہیں غلامانِ شاہِ کوثر سے ہم
اپنے ہاتھوں میں ہے دامانِ شفیع
ڈر چکے بس فتنہِ محشر سے ہم
نقشِ پا سے جو ہوا ہے سرفراز
دل بدل ڈالیں گے اس پتھر سے ہم
گردنِ تسلیم خم کرنے کے ساتھ
پھینکتے ہیں بارِ عصیاں سر سے ہم
گور کی شب تار ہے پر خوف کیا
لو لگائے ہیں رخ انور سے ہم
دیکھ لینا سب مرادیں مل گئیں
جب لپٹ کر روئے ان کے در سے ہم
کیا بندھا ہم کو خدا جانے خیال
آنکھیں ملتے ہیں جو ہر پتھر سے ہم
جانے والے چل دیے کب کے حسن
پھر رہے ہیں ایک بس مضطر سے ہم
Source: Naat-Lyrics (open transcription) – Zauq-e-Naat. Public domain (poet d. 1908).