Skip to content
HolyWayz logoHolyWayzQuran · Hadith · Salah

Aasman Gar Tere Talwon ka Nazara Karta

Hasan Raza Khan (d. 1908) · Urdu

آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا

If the sky could see the soles of his blessed feet… a famous naat by Ala Hazrat’s brother.

آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا
روز اک چاند تصدق میں اتارا کرتا
طوفِ روضہ ہی پہ چکرائے تھے کچھ ناواقف
میں تو آپے میں نہ تھا اور جو سجدہ کرتا
سرسرِ دشتِ مدینہ جو کرم فرماتی
کیوں میں افسردگیِ بخت کی پروا کرتا
چپ گیا چاند نہ آئی تیرے دیدار کی تاب
اور اگر سامنے رہتا بھی تو سجدہ کرتا
یہ وہی ہیں کہ گرو آپ اور ان پر مچلو
الٹی باتوں پہ کہو کون نہ سیدھا کرتا
ہم سے ذروں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتا
مہر فرما کے وہ جس راہ سے نکلا کرتا
دھوم ذروں میں انا الشمس کی پر جاتی ہے
جس طرف سے ہے گزر چاند ہمارا کرتا
آہ کیا خوب تھا گر حاضرِ در ہوتا میں
ان کے سایہ کے تلے چین سے سویا کرتا
شوق و آداب بہم گرم کشکش رہتے
عشق گم کردہ تو ان عقل سے الجھا کرتا
آنکھ اٹھتی تو میں جھنجھلا کے پلک سی لیتا
دل بگڑتا تو میں گھبرا کے سمبھالا کرتا
بے خودانہ کبھی سجدہ میں سوئے در گرتا
جانبِ قبلہ کبھی چونک کے پلٹا کرتا
بام تک دل کو کبھی بالِ کبوتر دیتا
خاک پر گر کے کبھی ہائے خدایا کرتا
گاہ مرہم نہیںِ زخمِ جگر میں رہتا
گاہ نشتر زنیِ خونِ تمنا کرتا
ہمراہِ مہر کبھی گردِ ختیرا پھرتا
سایہ کے ساتھ کبھی خاک پہ لوٹا کرتا
صحبتِ داغِ جگر سے کبھی جی بہلاتا
الفتِ دست و گریباں کا تماشا کرتا
دلِ حیران کو کبھی ذوقِ تپش پر لاتا
تپشِ دل کو کبھی حوصلہ فرسا کرتا
کبھی خود اپنے تحیر پہ حیران رہتا
کبھی خود اپنے سمجھنے کو نہ سمجھا کرتا
کبھی کہتا کہ یہ کیا بزم ہے کیسی ہے بہار
کبھی اندازِ تجاہل سے میں توبہ کرتا
کبھی کہتا کہ یہ کیا جوشِ جنون ہے ظالم
کبھی پھر گر کے تڑپنے کی تمنا کرتا
ستھری ستھری وہ فضا دیکھ کے میں غرقِ گناہ
اپنی آنکھوں میں خود اس بزم میں کھٹکا کرتا
کبھی رحمت کے تصور میں ہنسی آ جاتی
پاسِ آداب کبھی ہونٹوں کو بخیہ کرتا
دل اگر رنجِ معاصی سے بگڑنے لگتا
عفو کا ذکر سنا کر میں سمبھالا کرتا
یہ مزے خوبیِ قسمت سے جو پائے ہوتے
سخت دیوانا تھا گر خلد کی پروا کرتا
موت اس دن کو جو پھر نام وطن کا لیتا
خاک اس سر پہ جو اس در سے کنارا کرتا
اے حسن قصدِ مدینہ نہیں رونا ہے یہی
اور میں آپ سے کس بات کا شکوہ کرتا

Source: Naat-Lyrics (open transcription) – Zauq-e-Naat. Public domain (poet d. 1908).