Dhul-Kifl (AS) is named twice in the Quran among the patient, the righteous and the best. Little else about him is known with certainty.
Dhul-Kifl (AS) is mentioned twice in the Quran, both times in a list of noble prophets. Allah mentions Ismail, Idris and Dhul-Kifl, saying that all of them were among the patient, and that He admitted them into His mercy, for they were among the righteous (Quran 21:85-86). He also says: remember Ismail, al-Yasa' and Dhul-Kifl, all of them among the best (Quran 38:48).
Beyond this, very little is known about him with certainty. The name can be understood as 'the one with a portion' or 'the one who took on a responsibility', and commentators explain it in different ways – for example, that he undertook certain duties and fulfilled them faithfully. Scholars also differ about who he was: most consider him a prophet, since he is listed among prophets, while a few held he was a righteous man. Some have tried to identify him with Ezekiel (Hizqil) or other Biblical figures, but there is no authentic evidence for this.
A narration in Jami' at-Tirmidhi tells of a sinful man called al-Kifl who repented, but scholars have pointed out weakness in its chain and that it concerns a different person, so it should not be told as the story of this prophet.
What we can say with confidence is what Allah Himself tells us: Dhul-Kifl was patient, righteous, among the best, and admitted into Allah's mercy. That is a great honour, and a reminder that a person's worth before Allah lies in patience and righteousness, not in fame.
Lessons
- Patience is a quality shared by all of Allah's chosen servants.
- Greatness before Allah does not depend on fame among people.
- Do not attach weak narrations to prophets as established fact.
حضرت ذوالکفل علیہ السلام – صبر کرنے والوں میں
قرآن مجید میں حضرت ذوالکفل علیہ السلام کا ذکر دو بار صابرین، صالحین اور بہترین لوگوں میں آیا ہے۔ ان کے بارے میں مزید یقینی معلومات بہت کم ہیں۔
قرآن مجید میں حضرت ذوالکفل علیہ السلام کا ذکر دو بار آیا ہے، اور دونوں بار جلیل القدر انبیاء کی فہرست میں۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل کا ذکر کر کے فرمایا کہ یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا، بے شک وہ نیکوں میں سے تھے (الانبیاء 21:85-86)۔ ایک اور جگہ فرمایا: اسماعیل، الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو، یہ سب بہترین لوگوں میں سے تھے (ص 38:48)۔
اس کے علاوہ ان کے بارے میں یقینی معلومات بہت کم ہیں۔ نام کا مطلب حصے والا یا ذمہ داری اٹھانے والا سمجھا جا سکتا ہے، اور مفسرین نے اس کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں، مثلاً یہ کہ انہوں نے کچھ ذمہ داریاں اپنے سر لیں اور انہیں پوری دیانت سے نبھایا۔ علماء میں یہ بھی اختلاف ہے کہ وہ کون تھے: اکثر کے نزدیک وہ نبی تھے کیونکہ ان کا ذکر انبیاء کے ساتھ ہوا ہے، جبکہ چند علماء نے انہیں ایک نیک انسان قرار دیا۔ بعض لوگوں نے انہیں حزقیل یا بائبل کی کسی اور شخصیت سے ملانے کی کوشش کی ہے، لیکن اس کی کوئی مستند دلیل موجود نہیں۔
جامع ترمذی کی ایک روایت میں کِفل نامی ایک گناہگار شخص کی توبہ کا واقعہ آتا ہے، مگر علماء نے اس کی سند میں کمزوری کی نشاندہی کی ہے اور یہ بھی کہ وہ کوئی اور شخص تھا، اس لیے اسے اس نبی کا قصہ بنا کر بیان نہیں کرنا چاہیے۔
یقین کے ساتھ ہم وہی کہہ سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود بتایا: حضرت ذوالکفل صابر تھے، نیک تھے، بہترین لوگوں میں سے تھے اور اللہ کی رحمت میں داخل کیے گئے۔ یہ بہت بڑا اعزاز ہے اور یاد دہانی ہے کہ اللہ کے ہاں انسان کی قدر صبر اور نیکی سے ہے، شہرت سے نہیں۔
اسباق
- صبر وہ صفت ہے جو اللہ کے تمام برگزیدہ بندوں میں پائی جاتی ہے۔
- اللہ کے ہاں بڑائی لوگوں میں شہرت پر منحصر نہیں۔
- کمزور روایات کو انبیاء کی طرف ثابت شدہ حقیقت کے طور پر منسوب نہ کریں۔
Quran references
Sources
- Quran 21:85-86
- Quran 38:48