Skip to content
HolyWayzQuran · Hadith · Salah

Prophet Adam (AS) حضرت آدم علیہ السلام

39 ayahs of the Quran about prophet adam (as).

وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اِنِّيۡ جَاعِلٌ فِي الۡاَرۡضِ خَلِيۡفَةًؕ قَالُوۡ٘ا اَتَجۡعَلُ فِيۡهَا مَنۡ يُّفۡسِدُ فِيۡهَا وَيَسۡفِكُ الدِّمَآءَۚ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَؕ قَالَ اِنِّيۡ٘ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۝۳۰

پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں" انہوں نے عرض کیا: "کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقر ر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں" فرمایا: "میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے

And [mention, O Muhammad], when your Lord said to the angels, "Indeed, I will make upon the earth a successive authority." They said, "Will You place upon it one who causes corruption therein and sheds blood, while we declare Your praise and sanctify You?" Allah said, "Indeed, I know that which you do not know

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمۡ عَلَي الۡمَلٰٓئِكَةِ فَقَالَ اَنۭۡ بِـُٔوۡنِيۡ بِاَسۡمَآءِ هٰ٘ؤُلَآءِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۝۳۱

اس کے بعد اللہ نے آدمؑ کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا "اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ

And He taught Adam the names - all of them. Then He showed them to the angels and said, "Inform Me of the names of these, if you are truthful

قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَا٘ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَاؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ ۝۳۲

انہوں نے عرض کیا: "نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں، جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں

They said, "Exalted are You; we have no knowledge except what You have taught us. Indeed, it is You who is the Knowing, the Wise

قَالَ يٰ٘اٰدَمُ اَنۭۡ بِئۡهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡۚ فَلَمَّا٘ اَنۭۡ بَاَهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكُمۡ اِنِّيۡ٘ اَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِۙ وَاَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَ ۝۳۳

پھر اللہ نے آدمؑ سے کہا: "تم اِنہیں اِن چیزوں کے نام بتاؤ" جب اس نے ان کو اُن سب کے نام بتا دیے، تو اللہ نے فرمایا: "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے بھی میں جانتا ہوں

He said, "O Adam, inform them of their names." And when he had informed them of their names, He said, "Did I not tell you that I know the unseen [aspects] of the heavens and the earth? And I know what you reveal and what you have concealed

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡ٘ا اِلَّا٘ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰي وَاسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ۝۳۴

پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کے آگے جھک جاؤ، تو سب جھک گئے، مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا

And [mention] when We said to the angels, "Prostrate before Adam"; so they prostrated, except for Iblees. He refused and was arrogant and became of the disbelievers

وَقُلۡنَا يٰ٘اٰدَمُ اسۡكُنۡ اَنۡتَ وَزَوۡجُكَ الۡجَنَّةَ وَكُلَا مِنۡهَا رَغَدًا حَيۡثُ شِئۡتُمَاࣕ وَلَا تَقۡرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ۝۳۵

پھر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ "تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے

And We said, "O Adam, dwell, you and your wife, in Paradise and eat therefrom in [ease and] abundance from wherever you will. But do not approach this tree, lest you be among the wrongdoers

فَاَزَلَّهُمَا الشَّيۡطٰنُ عَنۡهَا فَاَخۡرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيۡهِࣕ وَقُلۡنَا اهۡبِطُوۡا بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّۚ وَلَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيۡنٍ ۝۳۶

آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا، جس میں وہ تھے ہم نے حکم دیا کہ، "اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین ٹھیرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے

But Satan caused them to slip out of it and removed them from that [condition] in which they had been. And We said, "Go down, [all of you], as enemies to one another, and you will have upon the earth a place of settlement and provision for a time

فَتَلَقّٰ٘ي اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيۡهِؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ ۝۳۷

اس وقت آدمؑ نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی، جس کو اس کے رب نے قبول کر لیا، کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

Then Adam received from his Lord [some] words, and He accepted his repentance. Indeed, it is He who is the Accepting of repentance, the Merciful

قُلۡنَا اهۡبِطُوۡا مِنۡهَا جَمِيۡعًاۚ فَاِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ مِّنِّيۡ هُدًي فَمَنۡ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ۝۳۸

ہم نے کہا کہ، "تم سب یہاں سے اتر جاؤ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میر ی ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا

We said, "Go down from it, all of you. And when guidance comes to you from Me, whoever follows My guidance - there will be no fear concerning them, nor will they grieve

وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَࣗۖ فَسَجَدُوۡ٘ا اِلَّا٘ اِبۡلِيۡسَؕ لَمۡ يَكُنۡ مِّنَ السّٰجِدِيۡنَ ۝۱۱

ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا آدمؑ کو سجدہ کرو اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا

And We have certainly created you, [O Mankind], and given you [human] form. Then We said to the angels, "Prostrate to Adam"; so they prostrated, except for Iblees. He was not of those who prostrated

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ اِذۡ اَمَرۡتُكَؕ قَالَ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡهُۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ۝۱۲

پوچھا، "تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا؟" بولا، "میں اُس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے

[Allah] said, "What prevented you from prostrating when I commanded you?" [Satan] said, "I am better than him. You created me from fire and created him from clay

قَالَ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا فَمَا يَكُوۡنُ لَكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ ۝۱۳

فرمایا، "اچھا تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے نکل جا کہ در حقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں

[Allah] said, "Descend from Paradise, for it is not for you to be arrogant therein. So get out; indeed, you are of the debased

قَالَ اَنۡظِرۡنِيۡ٘ اِلٰي يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ۝۱۴

بولا، "مجھے اُس دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے

[Satan] said, "Reprieve me until the Day they are resurrected

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ ۝۱۵

فرمایا، "تجھے مہلت ہے

[Allah] said, "Indeed, you are of those reprieved

قَالَ فَبِمَا٘ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ صِرَاطَكَ الۡمُسۡتَقِيۡمَۙ ۝۱۶

بولا، "اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر

[Satan] said, "Because You have put me in error, I will surely sit in wait for them on Your straight path

ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمۡ مِّنۭۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ اَيۡمَانِهِمۡ وَعَنۡ شَمَآئِلِهِمۡؕ وَلَا تَجِدُ اَكۡثَرَهُمۡ شٰكِرِيۡنَ ۝۱۷

اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا

Then I will come to them from before them and from behind them and on their right and on their left, and You will not find most of them grateful [to You]

قَالَ اخۡرُجۡ مِنۡهَا مَذۡءُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًاؕ لَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ۝۱۸

فرمایا، " نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا یقین رکھ کہ اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا

[Allah] said, "Get out of Paradise, reproached and expelled. Whoever follows you among them - I will surely fill Hell with you, all together

وَيٰ٘اٰدَمُ اسۡكُنۡ اَنۡتَ وَزَوۡجُكَ الۡجَنَّةَ فَكُلَا مِنۡ حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ۝۱۹

اور اے آدمؑ، تو اور تیری بیوی، دونوں اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے

And "O Adam, dwell, you and your wife, in Paradise and eat from wherever you will but do not approach this tree, lest you be among the wrongdoers

فَوَسۡوَسَ لَهُمَا الشَّيۡطٰنُ لِيُبۡدِيَ لَهُمَا مَا وٗرِيَ عَنۡهُمَا مِنۡ سَوۡاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّا٘ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَكَيۡنِ اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰلِدِيۡنَ ۝۲۰

پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا، "تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے

But Satan whispered to them to make apparent to them that which was concealed from them of their private parts. He said, "Your Lord did not forbid you this tree except that you become angels or become of the immortal

وَقَاسَمَهُمَا٘ اِنِّيۡ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيۡنَۙ ۝۲۱

اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں

And he swore [by Allah] to them, "Indeed, I am to you from among the sincere advisors

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوۡرٍۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفٰنِ عَلَيۡهِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَنَّةِؕ وَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَا٘ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلۡ لَّكُمَا٘ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۝۲۲

اس طرح دھو کا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پرلے آیا آخرکار جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے تب ان کے رب نے انہیں پکارا، " کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟

So he made them fall, through deception. And when they tasted of the tree, their private parts became apparent to them, and they began to fasten together over themselves from the leaves of Paradise. And their Lord called to them, "Did I not forbid you from that tree and tell you that Satan is to you a clear enemy

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَا٘ اَنۡفُسَنَاࣝ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ۝۲۳

دونوں بول اٹھے، "اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے

They said, "Our Lord, we have wronged ourselves, and if You do not forgive us and have mercy upon us, we will surely be among the losers

قَالَ اهۡبِطُوۡا بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّۚ وَلَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيۡنٍ ۝۲۴

فرمایا، "اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے

[Allah] said, "Descend, being to one another enemies. And for you on the earth is a place of settlement and enjoyment for a time

قَالَ فِيۡهَا تَحۡيَوۡنَ وَفِيۡهَا تَمُوۡتُوۡنَ وَمِنۡهَا تُخۡرَجُوۡنَࣖ ۝۲۵

اور فرمایا، "وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخرکار نکالا جائے گا

He said, "Therein you will live, and therein you will die, and from it you will be brought forth

وَلَقَدۡ عَهِدۡنَا٘ اِلٰ٘ي اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِيَ وَلَمۡ نَجِدۡ لَهٗ عَزۡمًاࣖ ۝۱۱۵

ہم نے اِس سے پہلے آدمؑ کو ایک حکم دیا تھا، مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اُس میں عزم نہ پایا

And We had already taken a promise from Adam before, but he forgot; and We found not in him determination

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡ٘ا اِلَّا٘ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰي ۝۱۱۶

یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو وہ سب تو سجدہ کر گئے، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھا

And [mention] when We said to the angels, "Prostrate to Adam," and they prostrated, except Iblees; he refused

فَقُلۡنَا يٰ٘اٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوۡجِكَ فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰي ۝۱۱۷

اس پر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ "دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جاؤ

So We said, "O Adam, indeed this is an enemy to you and to your wife. Then let him not remove you from Paradise so you would suffer

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰيۙ ۝۱۱۸

یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہو

Indeed, it is [promised] for you not to be hungry therein or be unclothed

وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰي ۝۱۱۹

نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستاتی ہے

And indeed, you will not be thirsty therein or be hot from the sun

فَوَسۡوَسَ اِلَيۡهِ الشَّيۡطٰنُ قَالَ يٰ٘اٰدَمُ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰي شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰي ۝۱۲۰

لیکن شیطان نے اس کو پھُسلایا کہنے لگا "آدم، بتاؤں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟

Then Satan whispered to him; he said, "O Adam, shall I direct you to the tree of eternity and possession that will not deteriorate

فَاَكَلَا مِنۡهَا فَبَدَتۡ لَهُمَا سَوۡاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفٰنِ عَلَيۡهِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَنَّةِؗ وَعَصٰ٘ي اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰيࣕۖ ۝۱۲۱

آخرکار وہ دونوں (میاں بیوی) اُس درخت کا پھل کھا گئے نتیجہ یہ ہُوا کہ فوراً ہی ان کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے آدمؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا

And Adam and his wife ate of it, and their private parts became apparent to them, and they began to fasten over themselves from the leaves of Paradise. And Adam disobeyed his Lord and erred

ثُمَّ اجۡتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰي ۝۱۲۲

پھر اُس کے رب نے اُسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی

Then his Lord chose him and turned to him in forgiveness and guided [him]

قَالَ اهۡبِطَا مِنۡهَا جَمِيۡعًاۭ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّۚ فَاِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ مِّنِّيۡ هُدًي ࣢ۙ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشۡقٰي ۝۱۲۳

اور فرمایا "تم دونوں (فریق، یعنی انسان اور شیطان) یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دُوسرے کے دشمن رہو گے اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا

[Allah] said, "Descend from Paradise - all, [your descendants] being enemies to one another. And if there should come to you guidance from Me - then whoever follows My guidance will neither go astray [in the world] nor suffer [in the Hereafter]

وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اِنِّيۡ خَالِقٌۭ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ۝۲۸

پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ "میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں

And [mention, O Muhammad], when your Lord said to the angels, "I will create a human being out of clay from an altered black mud

فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰجِدِيۡنَ ۝۲۹

جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا

And when I have proportioned him and breathed into him of My [created] soul, then fall down to him in prostration

فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ ۝۳۰

چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا

So the angels prostrated - all of them entirely

اِلَّا٘ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰ٘ي اَنۡ يَّكُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِيۡنَ ۝۳۱

سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا

Except Iblees, he refused to be with those who prostrated

اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰ٘ي اٰدَمَ وَنُوۡحًا وَّاٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَي الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۝۳۳

اللہ نے آدمؑ اور نوحؑ اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی رسالت کے لیے) منتخب کیا تھا

Indeed, Allah chose Adam and Noah and the family of Abraham and the family of 'Imran over the worlds

اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰي عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ۝۵۹

اللہ کے نزدیک عیسیٰؑ کی مثال آدمؑ کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہو جا اور وہ ہو گیا

Indeed, the example of Jesus to Allah is like that of Adam. He created Him from dust; then He said to him, "Be," and he was

All topics