Ismail (AS), son of Ibrahim and Hajar, grew up in the valley of Makkah where Zamzam sprang forth, submitted patiently to Allah's command of sacrifice, and helped his father build the Ka'bah.
Ismail (AS) was the first son of Ibrahim (AS), born to Hajar, after Ibrahim had prayed for a righteous child and was given glad tidings of a forbearing boy (Quran 37:100-101).
By Allah's command, Ibrahim took Hajar and the infant Ismail to the barren valley of Makkah, near the site of the Sacred House, and prayed that Allah make people's hearts incline towards them and provide them with fruits (Quran 14:37). Ibn Abbas narrated the details from the Prophet ﷺ: Ibrahim left them with a bag of dates and a waterskin. As he turned to leave, Hajar asked whether Allah had commanded this; when he said yes, she said that then Allah would not let them be lost. When the water ran out and the child grew thirsty, she ran between the hills of Safa and Marwah seven times looking for help. Then an angel struck the ground and water – Zamzam – gushed forth. The Prophet ﷺ said that this is why people walk between the two hills in Hajj and Umrah. Later a tribe called Jurhum settled there with Hajar's permission; Ismail grew up among them, learned Arabic from them and married from them (Sahih al-Bukhari 3364).
When the boy was old enough to walk and work with his father, Ibrahim saw in a dream that he was sacrificing him, and asked his son what he thought. Ismail replied that his father should do as he was commanded, and that, if Allah willed, he would find him among the patient (Quran 37:102). When both submitted and Ibrahim laid him down on his forehead, Allah called out that he had fulfilled the vision, and ransomed the boy with a great sacrifice (Quran 37:103-107). These verses do not name the son, but the majority of scholars hold that it was Ismail, since the glad tidings of Ishaq are mentioned afterwards as a separate gift (Quran 37:112).
Later, father and son together raised the foundations of the Ka'bah, praying that their Lord accept it from them, make them and their descendants submissive to Him, and raise among their descendants a messenger who would recite His verses and teach them the Book and wisdom (Quran 2:127-129). This prayer was fulfilled in Muhammad ﷺ, who was from the line of Ismail.
Allah praises Ismail (AS) as true to his promise, a messenger and a prophet, who enjoined prayer and zakah on his family and was pleasing to his Lord (Quran 19:54-55), and counts him among the patient and the righteous (Quran 21:85-86).
Lessons
- Trust in Allah, like Hajar's, is rewarded beyond expectation.
- Effort and reliance on Allah go together, as Hajar ran while trusting Him.
- Ismail's patient submission is a model for every young believer.
- Keep your promises and guide your family to prayer.
حضرت اسماعیل علیہ السلام – صبر والے فرزند
حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام مکہ کی وادی میں پلے جہاں زمزم پھوٹا، قربانی کے حکم پر صبر سے سر جھکایا اور اپنے والد کے ساتھ کعبہ تعمیر کیا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلے فرزند تھے جو حضرت ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے نیک اولاد کی دعا کی تھی تو انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی گئی (الصافات 37:100-101)۔
اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم، حضرت ہاجرہ اور ننھے اسماعیل کو مکہ کی بنجر وادی میں بیت اللہ کے مقام کے قریب چھوڑ آئے اور دعا کی کہ اے اللہ! لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں کا رزق دے (ابراہیم 14:37)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺ سے اس کی تفصیل نقل کی ہے: حضرت ابراہیم ان کے پاس کھجوروں کی ایک تھیلی اور پانی کا ایک مشکیزہ چھوڑ گئے۔ جب واپس جانے لگے تو حضرت ہاجرہ نے پوچھا: کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ تو بولیں: پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ جب پانی ختم ہوا اور بچہ پیاس سے بلکنے لگا تو وہ مدد کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات چکر دوڑیں۔ پھر ایک فرشتے نے زمین پر ضرب لگائی اور زمزم کا پانی پھوٹ پڑا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسی لیے لوگ حج و عمرہ میں ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ بعد میں قبیلۂ جُرہُم حضرت ہاجرہ کی اجازت سے وہاں آباد ہوا؛ حضرت اسماعیل انہی میں پلے بڑھے، ان سے عربی سیکھی اور انہی میں شادی کی (صحیح بخاری 3364)۔
جب بیٹا اس عمر کو پہنچا کہ باپ کے ساتھ چل پھر سکے، حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ وہ اسے ذبح کر رہے ہیں، اور بیٹے سے اس کی رائے پوچھی۔ حضرت اسماعیل نے عرض کیا: ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہ کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے (الصافات 37:102)۔ جب دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا، تو اللہ نے پکارا کہ تم نے خواب سچ کر دکھایا، اور ایک عظیم قربانی کو اس کا فدیہ بنا دیا (الصافات 37:103-107)۔ ان آیات میں بیٹے کا نام مذکور نہیں، لیکن جمہور علماء کے نزدیک یہ حضرت اسماعیل تھے، کیونکہ اس کے بعد حضرت اسحاق کی خوشخبری الگ نعمت کے طور پر بیان ہوئی ہے (الصافات 37:112)۔
بعد میں باپ بیٹے نے مل کر کعبہ کی بنیادیں اٹھائیں اور دعا کی کہ اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، ہمیں اور ہماری نسل کو اپنا فرمانبردار بنا، اور ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیج جو انہیں تیری آیات سنائے اور کتاب و حکمت سکھائے (البقرہ 2:127-129)۔ یہ دعا حضرت محمد ﷺ کی صورت میں پوری ہوئی جو حضرت اسماعیل کی نسل سے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تعریف فرمائی کہ وہ وعدے کے سچے، رسول اور نبی تھے، اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور اپنے رب کے پسندیدہ تھے (مریم 19:54-55)؛ اور انہیں صبر کرنے والوں اور نیکوں میں شمار فرمایا (الانبیاء 21:85-86)۔
اسباق
- حضرت ہاجرہ جیسا اللہ پر بھروسہ امید سے بڑھ کر انعام لاتا ہے۔
- کوشش اور توکل ساتھ ساتھ چلتے ہیں؛ حضرت ہاجرہ نے بھروسے کے ساتھ دوڑ دھوپ بھی کی۔
- حضرت اسماعیل کا صبر اور فرمانبرداری ہر نوجوان کے لیے نمونہ ہے۔
- وعدہ پورا کریں اور اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین کریں۔
Quran references
Sources
- Quran 14:35-41
- Quran 37:100-113
- Quran 2:125-129
- Quran 19:54-55
- Sahih al-Bukhari 3364